ایک حسین خواب آج شرمندۂ تعبیر ہوا

محمد احمد اسلمی مدھوبنی ، متعلم دارالعلوم دیوبند | Apr 16, 2026
Size
*سلسلہ : اظہارِ خیالات بہ موقع امتحانِ داخلہ دارالعلوم دیوبند 2026ھ/ 1447 ء*
زیر نگرانی: امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند
مضمون (١)
===============================
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
`ایک حسین خواب آج شرمندۂ تعبیر ہوا`

انسان کی زندگی خوابوں، امیدوں اور تمناؤں سے عبارت ہے۔ ہر شخص اپنے دل میں کچھ نہ کچھ آرزوئیں سجائے رکھتا ہے۔ بعض خواب وقت کے دھندلکوں اور کہر آلود فضاؤں میں کھو جاتے ہیں، کچھ خواہشیں حالات کی نذر ہو جاتی ہیں، لیکن کچھ خواب ایسے بھی ہوتے ہیں جو مسلسل محنت، سچی لگن، مضبوط ارادے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل و کرم سے ایک دن حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں۔ آج (مؤرخہ: ۲۵/ شوال المکرم ۱۴۴۷ھ؁ = ۱۴/ اپریل ۲۰۲۶ء؁ بہ روز منگل بوقت۱۲/ بجے دوپہر)میری زندگی میں بھی وہی مبارک دن آیا ہے اور ایک حسین خواب آج شرمندۂ تعبیر ہوا یعنی" ازہر ہند دارالعلوم دیوبند میں داخلہ"۔

یہ خواب کوئی معمولی خواب نہ تھا، بل کہ میری زندگی کی سب سے قیمتی تمنا، میرے دل کی سب سے روشن خواہش اور میری دعاؤں کا حسین مرکز تھا۔ میں مدتوں سے اس دن کا انتظار کر رہا تھا۔ میں نے نہ جانے کتنی بار تنہائی میں اس خواب کی تکمیل کی دعا کی، کتنی مرتبہ اپنے رب کے حضور دستِ سوال دراز کیے، اور کتنی بار اپنے دل کو امید دلا کر محنت کے راستے پر گامزن رکھا۔

آج جب وہ گھڑی آئی اور میری دیرینہ آرزو پوری ہوئی تو دل خوشی سے جھوم اٹھا، آنکھیں اشکبار ہو گئیں، اور زبان بے اختیار شکرِ الٰہی سے تر ہو گئی۔ یہ لمحہ میرے لیے صرف خوشی کا لمحہ نہیں بل کہ زندگی کا ایک یادگار باب ہے، جسے میں کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔

ہر کامیابی کے پیچھے قربانیوں کی ایک داستان ہوتی ہے۔ اس خواب کی تعبیر کے پیچھے بھی مسلسل جدوجہد، صبر، محنت اور دعاؤں کا سرمایہ شامل ہے۔ کبھی راستے دشوار ہوئے، کبھی حالات نے ہمت آزمانے کی کوشش کی، مگر دل میں بسے ہوئے خواب نے قدم ڈگمگانے نہ دیے۔ میں نے یقین رکھا کہ اگر نیت پاک ہو، ارادہ مضبوط ہو اور توکل علی اللہ ہو، تو منزل ایک دن ضرور ملتی ہے۔

آج کی یہ کامیابی مجھے یہ سبق دے رہی ہے کہ خواب وہی سچ ہوتے ہیں جن کے لیے انسان جاگ کر محنت کرتا ہے۔ محض آرزوئیں پال لینا کافی نہیں، بل کہ ان کی تعبیر کے لیے مسلسل کوشش ضروری ہے۔ جو لوگ ہمت نہیں ہارتے، اللہ تعالیٰ ان کے راستے ضرور بالضرور آسان فرما دیتا ہے۔

میں اس موقع پر اپنےسرمایۂ حیات والدین-اللہ رب العزت ان کی عمر میں برکت عطا فرمائے-، اساتذئے کرام، بالخصوص مدرسہ خادم العلوم باغوں والی مظفرنگر یوپی جن کی پرسکون چہار دیواری میں رہ کر بندہ کسی قابل بنا اور ہر اس شخص کا دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں جنہوں نے میری رہنمائی کی، دعائیں دیں اور میرا حوصلہ بڑھایا۔ ان کی محبت، شفقت اور تعاون میرے لیے قیمتی سرمایہ ہے۔

میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کامیابی کو میرے اور میرے والدین کے لیے وسیلۂ خیر و برکت بنائے، مجھے عاجزی عطا فرمائے، اور آئندہ زندگی میں مزید نیکی، خدمت اور کامیابی کے راستے کھول دے۔

طالب دعا: محمد احمد اسلمی مدھوبنی
مؤرخہ: ۲۶/ شوال المکرم ۱۴۴۷ھ؁ = ۱۵/ اپریل ۲۰۲۶ء؁ بہ روز بدھ
بوقت۲۰: ۰۴، مقام مسجد قدیم دوسری منزل دارالعلوم دیوبند
=======================
نوٹ: یہ مضمون امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم (واٹس ایپ چینل، فیس بک پیج، انسٹاگرام، ٹیلی گرام چینل اور ویب سائٹ) پر شائع کیا گیا ہے۔
*آپ بھی مضمون لکھ کر بھیج سکتے ہیں*
______________________
`امام سیبویہ اکیڈمی، دیوبند`
7091402036
https://wa.me/917091402036
About Author / مصنف کے بارے میں

محمد احمد اسلمی مدھوبنی ، متعلم دارالعلوم دیوبند is a valued contributor.

Share this Article