*سلسلہ : اظہارِ خیالات بہ موقع امتحانِ داخلہ دارالعلوم وقف دیوبند 2026ھ/ 1447 ء*
زیر نگرانی: امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند
مضمون (٢)
===============================
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
*انتخابِ الٰہی اور فیضانِ قاسمی کی اصل وراثت*
انسان کی زندگی تضادات کا مجموعہ ہے؛ کبھی ہم اپنی مرضی کو خدا کی رضا سمجھ لیتے ہیں، اور کبھی خدا کی رضا ہماری مرضی بن کر سامنے آتی ہے۔ میری زندگی کا سفر بھی اسی کشمکش سے عبارت رہا۔ ایک خواب تھا جس کی تعبیر کے لیے میں نے مصلے بھگوئے، تڑپ کر دعائیں مانگیں اور اپنی بساط بھر محنت کی۔ دل کی تمنا تھی کہ دورۂ حدیث کا یہ مبارک سال دیوبند کی اسی چوکھٹ پر گزرے جہاں سے علم کا سورج طلوع ہوا تھا۔
مگر علمِ دین کی طلب محض ایک سفر نہیں، بلکہ ایک ایسی ہجرتِ مقدسہ ہے جس کا ایک ایک قدم مشیتِ ایزدی کے اشاروں پر اٹھتا ہے۔ بسا اوقات انسانی فکر کسی خاص زاویے پر مرتکز ہو کر اسے ہی اپنی منزلِ مقصود تصور کر لیتی ہے، مگر تقدیرِ الٰہی کا دستِ شفقت اسے اس اصل سرچشمے کی سمت موڑ دیتا ہے جہاں اس کی پیاس کا حقیقی مداوا لکھا ہوتا ہے۔
آج (مؤرخہ: ۲۷/ شوال المکرم ۱۴۴۷ھ) میری علمی تڑپ کو وہ مرکزِ فیض میسر آیا ہے جسے کائناتِ علم و ادب "دارالعلوم وقف دیوبند" کے نام سے جانتی ہے۔ یہ محض ایک تعلیمی ادارے میں شمولیت نہیں، بلکہ یہ خانوادہِ قاسمی کی اس فکری، علمی اور نسبی وراثت سے تمسک کا ایک سنہرا موقع ہے جس کی اساس حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے اخلاص پر ہے۔ یہ وہی گلستانِ علم ہے جہاں حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کی حریتِ فکر، حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ کی بحرِ بے کنار علمی جلالت اور حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ کی بصیرتِ تامہ کے نقوش آج بھی جابجا بکھرے ہوئے ہیں۔
یہ کامیابی مجھے یہ سبق دے رہی ہے کہ اللہ سے مانگی ہوئی کوئی دعا ضائع نہیں ہوتی۔ میں نے "بہتر" مانگا تھا، اس نے مجھے "بہترین" سے نواز دیا۔ میں نے ایک ادارے کا نام مانگا تھا، اس نے مجھے ایک "فکری نسبت" عطا کر دی۔ دارالعلوم وقف میں میرا قدم رکھنا میری شکست نہیں، بلکہ میرے اس یقین کی جیت ہے کہ "اللہ اپنے بندے کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا"۔ میرا یہاں پہنچنا کسی اتفاقی حادثے کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ اس "کششِ قاسمی" کا اثر ہے جو حق کے متلاشیوں کو اپنی جانب کھینچ لیتی ہے۔
ہر کامیابی کے پیچھے کچھ مقدس ہستیوں کی بے لوث محبت اور دعاؤں کا سایہ ہوتا ہے۔ میری اس فکری و علمی منزل کے پیچھے میرے والدین—اللہ رب العزت ان کا سایہ تادیر عافیت کے ساتھ قائم رکھے— کی ان تھک قربانیوں اور سحر گاہی آہوں کا بڑا دخل ہے۔ ان کی تربیت اور اساتذہِ کرام کی شفقتوں نے ہی اس تہی دامن کو اس قابل بنایا کہ وہ خانوادہِ قاسمی کی اس عظیم وراثت کا حصہ بن سکے۔
میں محسوس کر رہا ہوں کہ یہاں کی فضاؤں میں آج بھی اس عظیم فکر کی بازگشت موجود ہے جس نے دیوبندیت کو ایک عالمی پہچان عطا کی۔ یہ وہ مقام ہے جہاں "قال اللہ و قال الرسول" کی صداؤں میں اسلاف کے خلوص کی تاثیر رچی بسی ہے۔ میرا داخلہ یہاں ہونا اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ہے کہ جب نیت خالص ہو تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو اس مقامِ بلند پر فائز کر دیتا ہے جہاں سے نسبتوں کے اصل حقائق منکشف ہوتے ہیں۔
آج جب میں ان علمی راہداریوں میں قدم رکھ رہا ہوں، تو میرا سرِ تسلیم اس ربِ کریم کے حضور جھکا ہوا ہے جس نے میرے لیے اس "حقیقی نسبت" کا انتخاب فرمایا۔ یہ وہ وادیِ منور ہے جہاں علم صرف کتابوں میں نہیں، بلکہ اساتذہ کے تقویٰ اور اسلاف کی وراثت میں دھڑکتا محسوس ہوتا ہے۔ اس مبارک سفر کے آغاز پر مخلصین اور قارئین سے التماسِ دعا ہے کہ باری تعالیٰ اس انتساب کو میرے ایمان کی پختگی، اخلاصِ نیت اور علومِ نبویہ کی تفہیمِ صحیح کا ذریعہ بنا دے۔
محنت میرا شعار ہے، توکل میرا ہتھیار، اور ان شاء اللہ! ان اکابر کی نسبت میرا وہ افتخار بنے گی جو رہتی دنیا تک میرے علم و عمل کو جلا بخشتی رہے گی۔
راقم: محمد مونس لکھیم پوری
۲۷/ شوال المکرم ۱۴۴۷ھ
۱۶/ اپریل ۲۰۲۶ء
جوارِ خانوادۂ قاسمی
دارالعلوم وقف دیوبند
=======================
نوٹ: یہ مضمون امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم (واٹس ایپ چینل، فیس بک پیج، انسٹاگرام، ٹیلی گرام چینل اور ویب سائٹ) پر شائع کیا گیا ہے۔
*آپ بھی مضمون لکھ کر بھیج سکتے ہیں*
______________________
`امام سیبویہ اکیڈمی، دیوبند`
7091402036
https://wa.me/917091402036