*سلسلہ : اظہارِ خیالات بہ موقع امتحانِ داخلہ دارالعلوم دیوبند 2026ھ/ 1447 ء*
زیر نگرانی: امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند
مضمون (٣)
===============================
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم،
اما بعد!
آج کا دن میری زندگی کے چند نہایت خوشگوار، یادگار اور بابرکت دنوں میں سے ایک ہے۔ ازہرِ ہند، "دارالعلوم دیوبند" جیسے عظیم، باوقار اور مقدس ادارے کے امتحانِ داخلہ میں محض کامیابی پا لینا ہی بذاتِ خود ایک بہت بڑی سعادت اور فخر کی بات ہے، لیکن اس کڑے امتحان میں 'دوم پوزیشن' حاصل ہونا، میرے لیے کسی کرامت اور اللہ رب العزت کے بے پایاں کرم سے کم نہیں۔
جب میں اس کامیابی پر نظر ڈالتا ہوں تو میرا دل تشکر اور عاجزی سے جھک جاتا ہے۔ اس مقام پر مجھے اپنا وہ ابتدائی سفر شدت سے یاد آ رہا ہے، جس کی سعادت مجھے مدرسہ عربیہ دعوۃ الحق، دوست پور (سلطان پور) میں نصیب ہوئی۔ میری ابتدائی تعلیم کی بنیاد اسی مبارک مدرسے میں رکھی گئی تھی، جہاں کے مخلص اساتذہ کرام کی شفقتوں اور محنتوں نے میرے لیے علمِ دین کی راہیں ہموار کیں اور آج مجھے اس قابل بنایا کہ میں دارالعلوم دیوبند جیسے عالمی تعلیمی مرکز میں یہ نمایاں مقام حاصل کر سکوں۔
میں بخوبی جانتا ہوں کہ یہ میری کسی ذاتی قابلیت، ذہانت یا محنت کا کمال ہرگز نہیں۔ یہ تو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے فضل، والدین کی راتوں کی دعاؤں، میرے بڑے والد محترم حضرت مولانا عبدالرب صاحب قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کی مقبول دعاؤں اور دادا جان حضرت مولانا محفوظ الرحمن صاحب مظاہری کی خاص روحانی توجہات اور شفقتوں کا ثمر ہے۔ انہیں بزرگوں کے سائے اور مدرسہ دعوۃ الحق کے اساتذہ سے لے کر اب تک کے تمام شفیق اساتذہ کرام کی مخلصانہ تربیت اور رہنمائی نے مجھے اس مقام تک پہنچایا ہے۔
یہ کامیابی جہاں ایک طرف بے پناہ خوشی اور طمانیت کا باعث ہے، وہیں دوسری طرف میرے کاندھوں پر ایک بھاری ذمہ داری کا احساس بھی ڈال رہی ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے اکابرین نے علم، عمل، اخلاص اور تقویٰ کی جو عظیم الشان اور روشن تاریخ رقم کی ہے، اس عظیم درسگاہ میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے کے بعد اساتذہ کرام اور اپنوں کی توقعات مجھ سے مزید بڑھ گئی ہیں۔ یہ پوزیشن میرے لیے فخر کا نہیں، بلکہ فکر کا مقام ہے اور ایک چیلنج ہے کہ میں اپنے اندر مزید عاجزی، للہیت اور طلبِ علم کی سچی تڑپ پیدا کروں۔
میرا اللہ سے عہد ہے اور میری یہ دلی دعا ہے کہ وہ مجھے اس کامیابی پر کسی بھی قسم کے فخر اور تکبر سے محفوظ رکھے، اسے میری مزید ترقی کا زینہ بنائے اور مجھے استقامت عطا فرمائے۔ دعا ہے کہ مادرِ علمی کے اس مقدس اور روحانی ماحول میں مجھے علمِ نافع نصیب ہو اور میں اکابرینِ دیوبند کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دینِ اسلام اور ملت کی سچی خدمت کے قابل بن سکوں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور ہمیں اپنے مقاصد میں کامل کامیابی عطا فرمائے۔ آمین!
عبدالقادر، ساکن کیتھاواں
سابق متعلم: مدرسہ عربیہ دعوۃ الحق دوست پور سلطان پور
=======================
نوٹ: یہ مضمون امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم (واٹس ایپ چینل، فیس بک پیج، انسٹاگرام، ٹیلی گرام چینل اور ویب سائٹ) پر شائع کیا گیا ہے۔
*آپ بھی مضمون لکھ کر بھیج سکتے ہیں*
______________________
`امام سیبویہ اکیڈمی، دیوبند`
7091402036
https://wa.me/917091402036