*سلسلہ : اظہارِ خیالات بہ موقع امتحانِ داخلہ دارالعلوم دیوبند 2026ھ/ 1447 ء*
زیر نگرانی: امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند
مضمون (٤)
مضمون نگار: محمد ساحل حنفی باغپتی، متعلم: دار العلوم دیوبند
===============================
*"کامیابی ان کا مقدر بنتی ہے جو گر کر سنبھلنا جانتے ہیں"*
علم کا سفر عشق کے سفر جیسا ہوتا ہے، جہاں ہر موڑ پر ایک نئی آزمائش قدم چومتی ہے۔ ہندوستان اور عالمِ اسلام کے عظیم دینی مراکز، جنہیں ہم ازہرِ ہند ام المدارس دارالعلوم دیوبند، دارالعلوم وقف، مظاہر علوم سہارنپور، مدرسہ شاہی مرادآباد اور جامع مسجد امروہہ جیسے ناموں سے جانتے ہیں، وہاں تعلیمی سال کے آغاز پر داخلہ امتحانات کا مرحلہ اب مکمل ہو چکا ہے۔ ان تمام مدارس کے نتائج سامنے آ چکے ہیں، اور حسبِ روایت کچھ چہروں پر مسکراہٹ ہے تو کچھ آنکھیں نم ہیں۔
کامیابی پر خوش ہونا فطری ہے، لیکن وہ طلبہ جو کسی وجہ سے فہرست میں جگہ نہیں بنا سکے، ان کے لیے یہ وقت مایوسی کا نہیں بلکہ خود احتسابی اور نئے عزم کا ہے۔
مایوسی: ایک زہرِ قاتل
امتحان میں ناکامی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ کی صلاحیتیں ختم ہو گئی ہیں یا اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے علم کے دروازے بند کر دیے ہیں۔ تکلیف ایک فطری احساس ہے، لیکن اس تکلیف کو مایوسی میں بدل لینا ایک طالبِ علم کے شایانِ شان نہیں۔ جذبات میں آ کر پڑھائی چھوڑ دینے یا ہمت ہار بیٹھنے کا فیصلہ آپ کے مستقبل کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یاد رکھیے، اللہ کے ہر فیصلے میں کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔
سبق، عبرت اور محنت کا نیا جذبہ
ان نتائج سے ہمیں دو سبق ملتے ہیں:
۱۔ عبرت: اگر کہیں کوتاہی رہ گئی تھی، تو اسے تلاش کریں—کیا محنت میں کمی تھی؟ کیا طریقۂ کار درست نہیں تھا؟ یا شاید آپ کا اصل رزق کہیں اور مقدر ہے۔
۲۔ عزمِ نو: وہ پتھر جو ٹھوکر بنتا ہے، اگر اسے صحیح جگہ رکھ دیا جائے تو وہی کامیابی کا زینہ بن جاتا ہے۔ نامور مدارس میں داخلہ نہ ہونا آپ کے علمی سفر کا خاتمہ نہیں، بلکہ ایک مختلف راستے کا آغاز ہے۔
روشن مستقبل آپ کا منتظر ہے
دنیا کے بڑے بڑے علماء اور عباقرہ ہمیشہ پہلے ہی امتحان میں کامیاب نہیں ہوئے تھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مستقل مزاجی اور محنتِ شاقہ نے گمنام اداروں کے طلبہ کو بھی آسمانِ علم کا درخشندہ ستارہ بنا دیا۔
اے علم کے مسافرو!
اپنے ارادوں کو ہمالیہ سے زیادہ بلند رکھو۔ اگر آج ان بڑے مدارس کے دروازے کسی وجہ سے نہیں کھلے، تو اللہ کی زمین وسیع ہے۔ کسی بھی دوسرے مدرسے میں پوری دلجمعی، اخلاص اور جذبے کے ساتھ محنت شروع کر دیں۔ آپ کی محنت ہی کل آپ کی پہچان بنے گی، نہ کہ صرف کسی ادارے کی سند۔
اٹھو! کمر بستہ ہو جاؤ اور اپنی قلم کی روشنائی سے اپنے مستقبل کو تابناک بنانے کی قسم کھاؤ۔ کامیابی ان کا مقدر بنتی ہے جو گر کر سنبھلنا جانتے ہیں۔
والسلام
از: طالبِ علم نبوّت " محمد ساحل حنفی باغپتی
متعلم : ازہرِ ہند اُمّ المدارس دار العلوم دیوبند سہارنپور ( یو پی) الہند
=======================
نوٹ: یہ مضمون امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم (واٹس ایپ چینل، فیس بک پیج، انسٹاگرام، ٹیلی گرام چینل اور ویب سائٹ) پر شائع کیا گیا ہے۔
*آپ بھی مضمون لکھ کر بھیج سکتے ہیں*
______________________
`امام سیبویہ اکیڈمی، دیوبند`
7091402036
https://wa.me/917091402036