*سلسلہ : اظہارِ خیالات بہ موقع امتحانِ داخلہ دارالعلوم دیوبند 2026ھ/ 1447 ء*
زیر نگرانی: `امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند`
مضمون (١٠)
مضمون نگار: *محمد سعد مہاراج گنج، متعلم: دار العلوم دیوبند*
===============================
*سالوں پرانا خواب اب تکمیل کو پہنچا*
*الحمد للّٰہ رب العلمين والصلوة والسلام علی رسولہ الکریم*
بعض خواب ایسے ہوتے ہیں جو انسان کے دل میں چپکے سے آ بس جاتے ہیں. نہ وہ شور مچاتے ہیں، نہ ظاہر کیے جاتے ہیں، مگر دل کی گہرائیوں میں ایک چراغ کی طرح جلتے رہتے ہیں۔ وقت گزرتا رہتا ہے، حالات بدلتے رہتے ہیں، مگر وہ خواب اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ آہستہ آہستہ وہ خواب دعا بن جاتا ہے. اور پھر دعا زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔
یہ بھی ایک ایسا ہی خواب تھا… جس کے لیے دعاؤں کا ایک خاموش مگر مسلسل سلسلہ جاری رہا۔ کبھی نمازوں کے بعد ہاتھ اٹھتے، کبھی سجدوں میں آنکھیں بھیگ جاتیں، کبھی تنہائی میں دل ہی دل میں مانگا جاتا۔ ہر بار یہی امید، یہی یقین کہ ایک دن اللہ تعالیٰ اس دعا کو ضرور قبول فرمائے گا۔
وقت گزرتا رہا مگر دعاؤں اور گریہ وزاری کا سلسلہ نہ ٹوٹا۔ دل کے کسی کونے میں ایک عجیب سا سکون بھی تھا کہ جو مانگا جا رہا ہے وہ ضائع نہیں ہوگا شاید رب اپنے بندے کی آواز کو سن رہا ہے اور ایک بہترین وقت کے لیے اسے محفوظ کر رہا ہے۔
پھر کبھی نہ بھولنے والا ایک دن آیا شوال المکرم کی 22 تاریخ اور یکشنبہ کا دن تھی عصر کے بعد کا وقت جب دارالعلوم دیوبند کے دفتر سے منتخب طلبہ عربی پنجم کا نتیجہ آویزاں کیا گیا وہ لمحہ جیسے وقت کو تھام کر کھڑا ہو گیا ہو دل کی کیفیت عجیب تھی سکنڈوں میں کئی دھڑکنیں لے رہا تھا ایک طرف بے چینی اور دوسری طرف امید تھی جیسے ہی فہرست پر نظر پڑی آنکھیں فہرست کی پہلی سطر پر ٹک گئیں کیونکہ وہاں ایک ایسا نام لکھا ہوا جیسے ہم کئی سالوں اس جگہ لکھا ہوا دیکھنا چاہتے تھے محمد اسعد مہاراج گنج
بس پھر کیا تھا دل بے اختیار خوشی سے بھر گیا، آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے، اور زبان پر صرف ایک ہی صدا تھی شکر الحمدللہ، الحمدللہ!
ایسا محسوس ہوا جیسے برسوں کی دعائیں ایک ہی لمحے میں قبول ہو گئیں ہوں۔ دل فوراً اپنے رب کے حضور جھک گیا، اور اندر سے ایک سکون سا اترتا چلا گیا… وہی سکون جو صرف قبولیت کے بعد نصیب ہوتا ہے۔
یہ خوشی صرف ایک نام کے آنے کی نہیں تھی بلکہ یہ ان تمام لمحوں کی تعبیر تھی جو دعاؤں میں گزرے، ان آنسوؤں کا صلہ تھا جو سجدوں میں بہے، اور اس یقین کا انعام تھا جو کبھی ٹوٹنے نہ پایا۔ اس میں والد محترم حضرت اقدس مولانا مفتی مبارک حسین صاحب قاسمی دامت برکاتہم العالیہ کی محنت، تربیت اور دعائیں شامل تھیں ان کی نگرانی، ان کا سایہ، اور ان کی فکر ہر قدم پر ساتھ رہی۔
والدہ محترمہ کی خاموش دعائیں، جو شاید کسی کو سنائی نہ دیتی ہوں مگر عرش تک پہنچتی ہیں ، اور بہنوں کی محبت و حوصلہ افزائی اور ایک بھائی کی دوسرے بھائی کیلئے تمنا تھی یہ سب اس خوشی میں شامل ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ یہ کامیابی کسی ایک کی نہیں، پورے گھر کی مشترکہ امانت ہے۔
اور پھر آخرکار وہ بات جس کے لیے اتنے برسوں سے دل دعاگو تھا، وہ حقیقت بن گئی کہ اللہ اب العزت نے ہمیں بھی وہ فون کرنے کا موقع دیا جس سے نکلنے والی آواز سن کر میرے والدین جھوم اٹھے کہ اللہ نے میرے بھائی محمد اسعد سلمہ دارالعلوم دیوبند میں پنجم عربی کیلئے منتخب کر لیا
آج جب اس سفر کو پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہر دعا، ہر انتظار، ہر آنسو اپنی جگہ سب قیمتی تھے کیونکہ انجام اتنا خوبصورت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے…
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کامیابی کو قبول فرمائے، علم میں برکت عطا کرے، اور میرے بھائی کو زندگی کے ہر موڑ پر کامیاب کرے
*🔏 محمد سعد ابن جناب حضرت مولانا مفتی مبارک حسین صاحب قاسمی دامت برکاتہم العالیہ*
ضلع مہراج گنج
سابق مدرسہ دارالعلوم الاسلامیہ بستی
=======================
نوٹ: یہ مضمون امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم (واٹس ایپ چینل، فیس بک پیج، انسٹاگرام، ٹیلی گرام چینل اور ویب سائٹ) پر شائع کیا گیا ہے۔
*آپ بھی مضمون لکھ کر بھیج سکتے ہیں*
______________________
`امام سیبویہ اکیڈمی، دیوبند`
7091402036
https://wa.me/917091402036