*سلسلہ : اظہارِ خیالات بہ موقع امتحانِ داخلہ دارالعلوم دیوبند 2026ھ/ 1447 ء*
زیر نگرانی: `امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند`
مضمون (١١)
مضمون نگار: *محمد احسان موتیہاری، متعلم: دار العلوم دیوبند*
=======================
**تعبیرِ خواب سے آغازِ باب تک*
*نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے*
*ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی*
انسان کی زندگی خواہشات اور خوابوں کے ایک لا متناہی سلسلے کا نام ہے۔ ایک خواہش پوری ہوتی ہے تو دوسری سر اٹھا لیتی ہے، دوسری کے بعد تیسری—حتیٰ کہ کوئی انسان یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس کی تمام خواہشیں ختم ہو چکی ہیں۔ لیکن بعض تمنائیں، کچھ ارمان اور چند خواب ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی تکمیل پر یوں محسوس ہوتا ہے گویا پوری دنیا مل گئی ہو اور ارمانوں کی کشتی ساحل سے ہمکنار ہو گئی ہو۔
ایک ایسا ہی رؤیا—جو محض رات کی تاریکی اور نیند کی آغوش میں دیکھا گیا منظر نہیں تھا، بلکہ دل کے گوشے گوشے اور ذہن کے ہر کونے میں بسایا گیا ایک خواب تھا۔ صرف ایک خیالی تصور نہیں، بلکہ تعبیر طلب ایک دیرینہ آرزو اور دل کی ایسی حسین تصویر تھی جسے حقیقت کا روپ دینے کے لیے خالص نیت، مضبوط ارادے اور انتھک محنت و مجاہدہ درکار ہوتا ہے۔ اس راہ میں نہ جانے کتنی خواہشات کا گلا گھونٹنا پڑتا ہے، کتنے تلخ لمحات برداشت کرنے پڑتے ہیں، کتنی قربانیاں دینی پڑتی ہیں، کتنی مرتبہ اپنے ارمانوں کا خون ہوتا اور آرزوؤں کو بکھرتا دیکھنا پڑتا ہے، اور کتنی بار اپنے رب کے حضور اشکوں کے سیلاب بہانے پڑتے ہیں، تب جا کر وہ خواب حقیقت کے اجالے میں نمایاں ہوتا ہے۔
راقم الحروف نے جب ازہر ہند، مرکز علم و عرفاں اور مرجع الخلائق دار العلوم کے منتخب شدہ کامیاب طلبہ کی فہرست میں اپنا نام دیکھا تو فرحت و مسرت اور سکون و راحت کا ایک عجب سما چھا گیا، دل بے اختیار سجدۂ شکر میں جھک گیا، زبان پر حمد و شکر کے ترانے جاری ہو گئے، آنکھوں سے خوشی کے آنسو رواں ہو گئے اور وہ تمام قربانیاں، وہ جدوجہد ، وہ شکست و ریخت اور وہ دعائیں—سب مقبولیت کا روپ دھارتی اور ایک حسین انجام کو پہنچتی محسوس ہوئیں۔
اس وقت دل گواہی دینے لگا کہ شاید اب قسمت کے تارے جگمگا اٹھے، وہ بند دروازے کھل گئے جن پر ناکامی و نامرادی کے تالے لگے تھے اور اللہ رب العالمین کی وہ مصلحتیں، جو تاہنوز پردۂ راز میں تھیں، نمایاں ہو گئیں۔
اسی لمحہ یہ احساس بھی دل میں جاگزیں ہو گیا کہ یہ کامیابی محض ایک منزل نہیں، بلکہ ایک نئے سفر کا آغاز اور ایک عظیم ذمہ داری کا پیش خیمہ ہے۔ یہ میری زندگی کا ایک روشن اور تابناک باب ہے، جس کے صفحات اخلاص، تقویٰ اور محنت و جاں فشانی سے مزین ہیں۔
*ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں*
*ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں*
*غیر منتخب دوستوں کو پیغام*
ناکام رہ جانے والے ساتھیوں کے لیے یہی پیغام ہے کہ اگر کسی چیز کو حاصل کرنے میں عزمِ مصمم، خالص محنت و لگن، شوق و جذبہ اور استقامت و دوام شامل ہو تو انسان کی سعیِ پیہم اور کاوشِ مسلسل کبھی اکارت نہیں جاتی، بلکہ وقت آنے پر اپنی کامل جلوہ گری کے ساتھ ضرور سامنے آتی ہے اور اپنا رنگ دکھاتی ہے۔ *إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ*
*ایک دن منزل تجھے مل جائے گی*
*جانب منزل یوں ہی بڑھتا ہی چل*
اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ وہ آئندہ بھی مزید محنت، خالص ذوق و شوق اور سچی طلب عطا فرمائے، علومِ شریعت کا حقیقی فہم نصیب کرے، دارالعلوم کے فیوض و برکات سے سیراب فرمائے اور علمِ نافع و عملِ صالح کی توفیق مرحمت فرمائے۔
آمین ثم آمین۔ ✨
=======================
نوٹ: یہ مضمون امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم (واٹس ایپ چینل، فیس بک پیج، انسٹاگرام، ٹیلی گرام چینل اور ویب سائٹ) پر شائع کیا گیا ہے۔
*آپ بھی مضمون لکھ کر بھیج سکتے ہیں*
______________________
`امام سیبویہ اکیڈمی، دیوبند`
7091402036
https://wa.me/917091402036